بھٹکل، 27؍ مئی (ایس او نیوز) بھٹکل تعلقہ سرکاری ہاسپٹل میں بیرون تعلقہ اور بیرونی اضلاع سے کووڈ مریضوں کی آمد دن بدن بڑھنے کے تعلق سے خبر عام ہوئی تھی اور سمجھا جارہا تھا کہ یہاں پر دستیاب طبی سہولتوں کی وجہ سے دوسرے مقامات سے مریض یہاں داخل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مگر اب ایک حیران کرنے والی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس کے پیچھے در اصل ایمبولینس ڈرائیور کی سازشی چال ہے جس کے ذریعے وہ مریضوں کو آکسیجن اور وینٹی لیٹر بیڈس دلانے کے نام پر لاکھوں روپے لوٹ رہے ہیں۔ اس کی تفصیل یوں بتائی جاتی ہے کہ کچھ ایمبولینس ڈرائیورشیموگہ، ساگر ، ہاویری، بھدراوتی، داونگیرے وغیرہ میں موجود آکسیجن اور وینٹی لیٹر کے ضرورت مند مریضوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ بہت ہی کم خرچ پر انہیں بھٹکل سرکاری اسپتال میں بیڈ دلا سکتے ہیں۔ اس کے لئے ایمبولینس کے کرایہ کے علاوہ 40 سے 60 ہزار روپے اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔ شیموگہ اور دوسرے قریبی اسپتالوں میں بستروں کی کمی یا وہاں پر مہنگے خرچ سے پریشان مریض اس ڈیلنگ کے لئے راضی ہوجاتے ہیں۔ اس طرح ایمبولینس ڈرائیورس ایسے مریضوں کو چپکے سے بھٹکل تعلقہ اسپتال میں لاکر داخل کرواتے ہیں۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس اسکینڈل کے بارے میں شک اس وقت پیدا ہوا جب بھٹکل میں خدمات انجام دے رہی امراض خواتین کی ایک ماہر ڈاکٹر کو بھدرا وتی سے ایک شخص نے کال کرکے بھٹکل میں وینٹی لیٹر بیڈ دستیاب رہنے کے تعلق سے معلومات دریافت کی ۔ دوسرے دن بھی شیموگہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال کے ڈاکٹر نےاُنہیں پھر ایک بار کال کرتے ہوئے بھٹکل سرکاری اسپتال میں وینٹی لیٹر دستیاب رہنے کے تعلق سے معلومات دریافت کی ۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ ہمارے ہاسپٹل سے پانچ مریض بھٹکل کے اسپتال میں منتقل ہونے کے لئے ایمولینس کا انتظام کررہے ہیں۔ اور کئی مریض اچانک ہی یہاں سے بھٹکل اور منگلورو کے اسپتالوں کی طرف منتقل ہونے لگے ہیں۔ شیموگہ کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ایمبولینس ڈرائیوروں کے ذریعے بڑی رقم وصول کرکے بھٹکل تعلقہ اسپتال میں انہیں داخل کروانے کا جو معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بارے میں گہری تفتیش ہونی چاہیے۔
اس اسکینڈل کے بارے میں معلوم ہونے پر بھٹکل تعلقہ ہاسپٹل کی ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "مریض کو وینٹی لیٹر کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب اس کی حالت انتہائی نازک ہوجاتی ہے۔ ایسے موقع پر بھی ان سے رقم وصول کرنا ایک انتہائی گھناونا کام ہے۔ بھٹکل تعلقہ ہاسپٹل میں فی الحال کووڈ بیڈس دستیاب ہیں۔ سانس کی تکلیف میں مبتلا مریض جب یہاں پہنچتے ہیں تو دوسری جگہ سے سفارشی مراسلہ نہ ہونے کے باوجود انسانیت کی بنیاد پر ہم انہیں داخل کردیتے ہیں۔ اب یہ جو معاملہ سامنے آیا ہے اس کے بارے میں تعلقہ انتظامیہ کو آگاہ کردیا گیا ہے۔"